ہر اک ذرے میں چاند نظر آیا

جب کبھی ان آنکھوں میں پیام نظر آیا

 

ہاں ! سلسلہ محبت تہ ہو گیا تھا بس ہونہی شروع

آہ ! تصورِ عشق میں ٹیلہ ریت کا تو گھڑا کچا نظر آیا

 

اے کاش مضبوطی عشق پہ ہوتا یقیں

دو ہاتھ پیچھے ہٹے جیسے ہی لمحہ قربت نظر آیا

 

اے دل بے قرار ہوں ضد نہ کر قسم سے

وہ شخص آج مجھے دیوانوں سا نظر آیا

 

عین ممکن تھا کہ وہ شناخت کرتا میری

لیکن سراپا میرا فقط سیاہ سایہ نظر آیا

 

روگ غم و فرقت و تنہائی تو ہم بھی لگا بیٹھے اے جاناں

ساتھ اپنے سے اجنبی کی قبر کے اور اک خاکہ نظر آیا 

نظم از حمیرا زمان۔